تعلّقِ لا تعلّقی

IMG_1665

وہ سمجھ کے پیِتا رہا لہُو آبِ حیات کو

جسم اُس کا تھا رُوح منسُوب تھی مجھ سے

میرے ہونے نہ ہونے کی کیا شناخت رہی اب

نام اُس کا تھا ذات منسُوب تھی مجھ سے

کچھ درد کا حِصّہ اور خط میں لِپٹے آنسو

عُنوان اُس کا تھا داستان منسُوب تھی مجھ سے

خواہش کے سمندر میں ڈُوبی فقَط میری ہستی

شِکارہ اُس کا تھا لِہر منسُوب تھی مجھ سے

نہ چاہا کچھ سِواۓ چاہنے کی تِشنگی میں

جام اُس کا تھا خُماری منسُوب تھی مجھ سے

آنکھ میں چُبھتا پَل ٹِھہر گیا ڈَر سے شاید

فیصلہ اُس کا تھا خامِشی منسُوب تھی مجھ سے

بیداری ہو عشق میں تو بے زار ہو جاتی ہے لگن

خُدا اُس کا تھا عبادت منسُوب تھی مجھ سے

رسمِ مُحبّت

IMG_1664

کُچھ پُوچھ بھی لیں اگر تو غم نہ کرنا

یہ ادا ہے مُحبّت کی کوئی شکوہ تو نہیں

ڈُوبتے فاصلوں میں حسرتیں زندہ رہیں

یہ وفا ہے مُحبّت کی کوئی شکوہ تو نہیں

خاموش رہے زُباں ستم سہنے کے باوجود

یہ جزا ہے مُحبّت کی کوئی شکوہ تو نہیں

جواب سے نہ پُوچھ سوال میں چھُپے بھید

یہ رضا ہے مُحبّت کی کوئی شکوہ تو نہیں

یہ لَب یہ نظر اور آرزوؤں میں مانگا ہُوا پل

یہ دُعا ہے مُحبّت کی کوئی شکوہ تو نہیں

طلب گار ہم

IMG_1663

ہم تو عشق کے ہیں دیوانےاور کچھ نہیں چاہیۓ

چند لفظ اور افسانے ورنہ کچھ نہیں چاہیۓ

نہ کوئی گِلہ نہ شکوہ بس ٹھِہرتی نظر چاہیۓ

جس راہ میں تیری خوُشبو ہو وہ سفر چاہیۓ

نِیّت پہ گُماں کیسا ہمیں  تو بس عَمل چاہیۓ

ایک یاد میں تصوّر اور دل میں تصویر چاہیۓ

نہ کوئی بیاباں نہ ہی کھِلتا گُلِستان چاہیۓ

ایک تنہا کیاری میں مُسکراتا خیال چاہیۓ

دیتے ہیں دِلاسا خُود کو مگر سچّا چاہیۓ

دیکھتےآئینے میں چہرہ مُجھےاُس کا چاہیۓ

بھرتے پیمانے سے چھلکتے ارمان چاہیۓ

خالی جام سے جھانکتےپیاسے شباب چاہیۓ

بےاَثرگُلاب

IMG_1659

میں حسین ہوتی اگر تو

وہ بھُول جاتا کہ صبر

کی شاخ پہ بے خُودی

…کیسے دستک دیتی ہے

میں ہوتی اگر پری تو

وہ بھُول جاتا کہ کہانی

کیسے حقیقت کے پردے

…فاش کرتی ہے

میں چاندنی ہوتی اگر تو

وہ بھُول جاتا کہ عکس

میں کیسے رات

…جھانکا کرتی ہے

میں ہوتی گر پُرکشِش تو

وہ بھُول جاتا کہ گُناہ کی

سرحد کس راستے لے جا کے

…دَم توڑتی ہے

میں ساحرہ اگر ہوتی تو

وہ بھُول جاتا کہ بس میں

کرتی جان کیسے منتر

…پڑھا کرتی ہے

رنگِ عاشقی

IMG_2423

یہاں کے رنگ انوکھے ہیں مگر

آسمان وہاں پہ کِرنیں سجاتا ہے

یہاں اُڑتی ہے ملِکہ بن کے تِتلی

تاج وہاں پہ غُلام پہناتا ہے

یہاں اِختیار کی حد میں ہے قید

حِصار وہاں پہ جادُو جگاتا ہے

یہاں چٹّان پہ بادل سجدہ گر ہے

ساون وہاں پہ دھُوپ چھُپاتا ہے

یہاں جلتی ہےشمعٰ اپنے آپ ہی

دِیا وہاں پہ محبوب سُلگاتا ہے

جُستجُو کی شمعٰ

FullSizeRender

اُس جہاں سے پرے اِس حد کے کِناروں میں

سُرمئی شام سے آگے اوٹ کی لِہروں میں

اُفق کے پیراہن پہ کُہرے کی بانہوں میں

شمس کی پلکوں تلے چلمن کی چھاؤں میں

یاد کرتی ہوئی چند نِیم خلِش راہوں میں

آنکھ میں چھُپتی نظروں کی سِلوٹوں میں

عبادت میں گھِرتے بےسُدھ سجدوں میں

رُوح میں اُترتے کافر بُت کے قدموں میں

جواں عکس کےآئینےکی ٹُوٹتی اُمنگوں میں

اُس انجان صنم کی مدہوش دھڑکنوں میں

مُنتظر شمعٰ کے بے نقاب ہِجابوں میں

اور ڈھانپتے تَن کے بے پناہ اُجالوں میں

ایک اُمید

IMG_1653.JPG

جِن حسرتوں میں جلا ہے دل

گر پھُول خُود راکھ ہو جاتا

…تو شمعٰ واپس لَوٹ جاتی

جہاں سے شروع ہےسفر درد کا

گر کارواں خُود بھٹک جاتا

…تو راہ گُزر واپس لَوٹ جاتی

جدھر نہ پُہنچے مِہک ہمنوا کی

گر گُلستان اُجڑ جاتا

…تو کلی واپس لوَٹ جاتی

جب کہِیں پا نہ سکے سرُور کوئی

گر قرار حاصل ہو جاتا

…تو بے چینی واپس لَوٹ جاتی

جس اِنتظار میں جِیۓ پَل صدیّوں کے

گر وہ لمحہ پھِنسل جاتا

…تو راحت واپس لوَٹ جاتی

اَندازہ

IMG_1648

نرم ہونٹوں کی شبنم

صندلی ہاتھوں کی خوُشبو

شوخ دل کی دھڑکن

…مُجھے یاد تو کرتے ہوں گے روزانہ

روشن آنکھوں کے ستارے

چُنتی راہوں کے پھُول

اُبھرتی رات کی چاندنی

…میری تمنّا تو کرتے ہوں گے روزانہ

آدھے خواب کے قِصّے

بے چین کروٹ کی کسک

نم آنکھوں میں خواہش

…میرا رستہ تو دیکھتے ہوں گے روزانہ

اِشتیاقِ اُنس

IMG_1646

جلتے ہیں دِیۓ چراغاں میں جیسے اکثر

خُدا کرے ہتھیلی پہ مجھے بھی جلاۓ کوئی

آئینے میں جس طرح سما جاتا ہے چاند

خُدا کرے دیکھ کہ مجھے بھی شرماۓ کوئی

ٹکرا کے جب نظر پُہنچے مقام پر اپنے

خُدا کرے منزل پہ مجھے بھی مِل جاۓ کوئی

خواب لیتے ہیں انگڑائی جیسے کروٹوں میں

خُدا کرے حقیقت میں مجھے بھی جگاۓ کوئی

شمعٰ کے رنگ کرتے ہیں بے بس جس طرح

خُدا کرے آرزو میں مجھے بھی نِہلاۓ کوئی

دل بہار یادیں

IMG_1639

کہِیں تُمہیں وہ نظر تو یاد

نہیں آتی جس کی مستی

چُوما کرتی تھی تُمہیں

وصل کی بہاروں میں؟

کہیِں تُمہاری دھڑکن کا

جی چُراتی تو نہیں وہ نبض

جس کو چھُوا تھا تم نے

وصل کی بہاروں میں؟

کہِیں اُن ہاتھوں کی حِدّت

بہکاتی تو نہیں تُمہاری تڑپ

تھاما تھا جس نے تمہیں

وصل کی بہاروں میں؟

کہِیں تمہیں اُس آغوش کی مِہک

بُلاتی تو نہیں جس کی خوُشبو

میں بھُلایا تھا تم نے خُود کو

وصل کی بہاروں میں؟