محض ایک خیال؟

کبھی تو لگتا تھا کہ یہ سب ایک حقیقت ہے۰ مگر وقت سب سے بڑا اُستاد ہے۰ یہ وہ ھی سِکھا دیتا ہے جو انسان سیِکھنے سے قاصِر ہے۰ محبتوں کی خواہش کرنے والوں کی یہی سزا مُقرّر ہے۰ یہ ایک لا حاصل سا فرار ہے جہاں کوئی پُہنچنا بھی چاہے تو نہیں پُہنچ سکتا۰ کبھی لگتا تھا کہ مُحبّت سے اعلیٰ کوئی جذبہ نہیں مگر یہ سب ایک جھوٹ ثابت ہُوا۰

جن اَنکھوں کو یاد کر کے راتوں کی چاندنی کو ماندھ کیا ہے وہ اب دن کے اُجالے میں کبھی تپِش تو کبھی آگ بن کر برستی ہیں۔

وہ شاید اُس ٹُوٹے تارے کے مانند تھِیں جسے اپنی خود کی منزل کا پتا نہ ہو۰ اور میں پاگل محض ایک سراب بن کے رہ گئی۰

حُسن کے گُلدستے میں لِپٹی کوئی غزل یا پھر مُرجھاۓ پھُولوں کی باسی مِہک۰

مُحبّت عشق سب بے وفا اور زندگی ایک دھوکہ۰

اجنبی راتیں۔۔

وہی دن ہیں وہی شامیں اور اُن میں چھُپی ہُوئی کہانیاں بھی وہی پُرانی ہیں مگر راتیں نئی سی ہیں۔ ہر بار ایسے ہی لگتا ہے کہ روز ایک انجانی کہانی ایک نۓ انداذ میں آپ کا تعاقب کر رہی ہوتی ہے۔ ایک نو خیز کروٹ تو کبھی روشن صُبح کی طرح جواں اِنتظار میں بیٹھی اُسے کھوج رہی ہوتی ہے۔ کئی سال بِیتے مگر تنہائی اور نئی کہانی کا ہمیشہ اِنتظار کیا ہے۔ کیا یہ میری اپنی راتیں ہیں یا پھر پرائی؟

کبھی دل تو کبھی رُوح کا قِصّہ لے کربیٹھ جاتا ہے کمزور لمحہ اور کبھی تو چاند کی شوخی ماندھ دِکھائی دیتی ہے۔۔ یہی ہے شاید پُرانے سِلسلوں کی ادھورے چاہت جو کبھی مکمل نہی ہوتی اور شاید اجنبی راتوں کے بِکھرتے فسانے۔