تمہیں ڈھوُنڈ تے ہیں

 

image

جب تُم نہیں ہوتے تو ڈُھو نڈتے ہیں ہر مِحفل  میں تُمہیں

سِتا رے بھر دو  ہما ر ی آ نکھوں میں بخش کر یہ خُوشی ہمیں

گو شۂِ فِکر میں بے چین نظریں کبھی اُٹھتی تو کبھی جُھکتی

سرُور بھر دو ہما ری رُوح میں بخش کر یہ خُوشی ہمیں

جَلوہ گر ہو تو پیا سے کو زِندگی کے چند گھُونٹ نصیب ہوں

مُحبّت بھر دو ہما ری رگ و جاں میں بخش کر یہ خُوشی ہمیں

شِر کتِ جا ناں سے روشن ہو بزم  نۓ ا فسانے جو اں ہوں

شَرارے بھر دو ہما ری سا نسوں میں بخش کر یہ خُوشی ہمیں

خیال کو جسم مِلا

image

خواب میں دیکھا تھا اُسے ایک دن میں نے

مگر آج وہ میرے در پہ دستک دیتا رہا

بُہت روکا سُرخ آندھی کی گرد نہ لگے دامن کو

مگر زرّہ زرّہ خاک میں میرے مِلتا رہا

راہ سے منزِل کا سفر طے کر تو لِیا میں نے

مگر کا نٹا بن کے میرے پَیر میں چُبھتا ر ہا

ایک مِیٹھے زِہر کی طرح ا ثر کر ر ہا ہے خُون میں

مگر خنجر بن کے میرے سِینے میں کھُبتا رہا

خیال جو حقیقت ہو نے کا سبب بن گیا

مگر رُوح بن کے میرے جِسم میں پَلتا دہا

آدھی ادھُوری

image

وہ مُصوّر ہے میرے وجود کا

لیکن تصویر تو ادھوری رہ گئ

جو اُس رات کو مکمل ہُوئی

وہ شام میری ادھوری رہ گئ

آنسوُ سے مسکر اہٹ بنتی گئ

لیکن وہ زنجیر ادھوری رہ گئ

بَند جھرونکے میں جو خطا ہوئی

وہ بات کچھ ادھوری رہ گئ

شمعٰ جو جلائ تھی اُس رات

میری وہ رات ادھوری رہ گئ

اِ ک خو ا ب

image

آ دھے پہر لرزتی رہی اُ ن نظر و ں کی تا ب لے کر

ا و ر بر ستے ر ہے مُحبّت کے پھو ل خنجر بن کر

خا مو ش لمحے میں شو ر سُنا ئی دیتا رہا

ا و ر مچلتے رہے جذبا ت لہروں کی مو ج بن کر

شِدّ تِ عشق ر ا ت بھر منتق کرتی ر ہی

اور چُبھتے ر ہے موتی آسما ن سے پا نی بن کر

اِ س عقید ت سے سجد ے کر تی ر ی میری  ز ا ت

اور بر ستے ر ہےاُ سکے جلو ے مظہرِ نور بن کر

اُ س کی کسک فنا کرتی رہی رُو ح کو ہلکے ہلکے

اور اُ ترتے رہےآ تشِ رنگ شمعٰ کی مو م بن کر

نیا شو ق

image

آجکلل تھِر کتے نہیں قد م ز میں پر

شا ید نئ اُ ڑ ا ن کی تیا ر ی میں ہیں

حسنُ ا و ر بے حِسا ب خیا ل آ ز ا د ہیں

شا ید جو ا ں ا فسا نے دُھر ا نے کو ہیں

خز آؤ ں میں مو سمِ بہا ر کی سی ہلچل

شا ید گُلِ نَو کِھلنے کی تیا ری میں ہیں

صبحیں پُر اَ فضا، ر ا تیں شا د ا ب ہیں

شا ید اُ منگیں پِھر سے جگا نے کو ہیں

شمعٰ تنہا ئ کی بندِ ش سے بُجھی جا ر ہی ہے

شا ید پر و ا نے کی خبر پِھر سے آ نے کو ہے

ستا روں کی محفل

image

image
ستا ر ے اوڑھےوہ رات جگمگا تی ر ہی

اِک نئی راہ کی طر ف میں کھچی جا تی رہی

پُر کشش ہے د لفریب نگا ہِ یا ر

اُ سکے سا ئے کے سِمت میں چلتی جا تی ر ہی

يہ گہرا اُ نس ہے شو ق نہ سمجھیۓ گا کہیںِ

مختصر تھا لمحہ اور خو د کو بہلا تی ر ہی

کہنا چا ہتے تھے شا ید جو دِل کی با ت

خا مو شی رات بھر ہنسی اُ ڑاتی ر ہی

کُہرےکےدُھو ئیں میں کرِن دکھائی د یتی ہے

بادلوں پہ پیر میں ر کھتی جا تی ر ہی

کہکشاں سے ہو روشن ذاتِ شمعٰ

خواب جو حقیقت کا سبب بنا تی ر ہی

 

 

بز مِ شمعٰ

image

 

 

 

چا ند رات سہا نی تھی ، محبّت جب دیو انی تھی

پِہروں سر اب میں جلتے رہنا ، شا میں وہ مستا نی تھیں

خشبوُ چندن لمس اور پایل ، عِشقیہ آتش سُلگا نی تھی

شمعٰ دِھیمے جلتے رہ گئ ، صُبح تو آخر آنی تھی