نَذرانہ

image

جاتے جاتے وہ مُجھے نذرانہ دے گیا

ہونٹوں کو پیاس آنکھوں کو شرمانہ دے گیا

برق سی لِہر خُونِ جگر چِیرتی رہی

نۓ سِلسلوں کو انداذ قاتِلانہ دے گیا

نظریں ٹِھہری رہیں وقت چلتا رہا

چند بِسروں میں ایک زمانہ دے گیا

چُھپتی رہی شمعٰ جلالِ یار میں

قندِیل کی سوغات میں آشیانہ دے گیا

4 thoughts on “نَذرانہ

Leave a reply to Uma Cancel reply