جگمگاتے جُگنوُ

image

کُچھ سرگوشی میں

کہیں خاموشی میں

کِہتے جاتے ہیں

….سُنتے جاتے ہیں

راہیں شاداب

آزاد سفر میں

چلتے جاتے ہیں

….بڑھتے جاتے ہیں

شوخ چنچل

بھیگے پَلوں میں

نِکھرتے جاتے ہیں

….سنورتے جاتے ہیں

مسَلتے گُلاب

حِدّت کی رُت میں

مہکتے جاتے ہیں

….بِہکتے جاتے ہیں

اُلجھے مخمل

کسک کے جال میں

سُلجھتے جاتے ہیں

….بِکھرتے جاتے ہیں

جِھلمِلاتے جُگنو

چمک دَمک میں

تِلملاتے جاتے ہیں

….پھڑپھڑا تے جاتے ہیں

تیرا شُکریہ

image

دربارِ خُداوند میں فریادِ مُحبّت سُنی تُو نے

مُعجزۂِ پروردگارِکرم پہ فنا ہو جاؤں تو کِتنا کم ہے

نہ جانے کِس گھڑی حسرت راہِ عشق میں مُبتلا ہوئی

نوازشِ اِ لٰہئِ سوغات پہ بِچھ جاؤں  تو کِتنا کم ہے

عُمر تمام بِسری طلبِ وصالِ یار کی کھوج میں

کرمِ مَولا کی خُدائی پہ مِٹ جاؤں تو کِتنا کم ہے

خوش نصیبی دیکھیۓ کہ دل و جاں منوّر ہونے لگے ہیں

مہربانئِ آقا کی مرضی پہ جاں لُٹاؤں تو کِتنا کم ہے

….اپنا آپ نظر نہیں آتا

image

دل میں اُٹھتے طُوفان کا شور

اُس کی دھڑکنیں سُن لیتی ہیں

اور وہ اپنے حسین وجوُد کے

گرم موسموں سے سفر کرتا

میری آنکھوں کے سِتاروں میں

جب گُم ہو جاتا ہے تو

….مُجھے اپنا آپ نظر نہیں آتا

آج ایسے بے شُمار لمحے

اور اُن کے ماتھے پہ سجتے

میری تقدیر کے سہارے جِنہیں

چُھوئیں تو بنیں شبنم

پا لیں تو سمندر اور اِن

سِلسلوں میں جگتے وہ

خوشگوار پَل جن کی قسمت سے

روشن ہوتے اُجا لے اور

دیکھتے ہی دیکھتے جب وہ

سویرے جگمگا ئیں تو

….مُجھے اپنا آپ نظر نہیں آتا

جِن قدموں میں زندگی دم

توڑتی نظر آۓ تو لازم ہے

بندگی سجدوں میں ادا ہو

تب میری شناخت اُس میں ایسے

رَچ جاۓ جیسے شمعٰ میں آنچ

اور عشق کی سیڑھی چڑھتے چڑھتے

بُلند جب ہونے لگتی ہوُں تب

…..مُجھے اپنا آپ نظر نہیں آتا

جہاں تیرا ذِکر نہیں

image

کھو جاتے ہیں خیالِ سفر میں اجنبی بن کے یُوں

نہ بُلاؤ اُن رونقوں میں جہاں میرے مِحبوب کا ذِکر نہ ہو

احساسِ راحت سے ہیں میری تنہائی کے راز درخشاں

نہ دھکیلو اُن محفلوں میں جہاں میرے مِحبوب کا ذِکر نہ ہو

پابندئیِ اظہار ہو تو حریفِ وفا خوشیاں سمیٹتے نظر آئیں

نہ لے جاؤ اُن شاموں میں جہاں میرے مِحبوب کا ذِکر نہ ہو

طوِیل ہیں گھڑیاں جنہیں بے آسرا کرتے ہیں بے خبر دل

نہ جلاؤ اُن اُجالوں میں جہاں میرے مِحبوب کا ذِکر نہ ہو

بے خُودی

image

تیری ایک صدا پہ جو دوڑی چلی آتی ہُوں

لگن شاید اِسی کو کہتے ہیں

بِچھاۓ ہیں پھُول تیری راہ گزر میں ایسے

چاہت شاید اِسی کو کہتے ہیں

جِس سرُور میں ہم مِل رہے ہیں صنم

خُماری شاید اِسی کو کہتے ہیں

مہک رہا ہےمیرا پیراہن تیری خوشبو سے

محبّت شاید اِسی کو کہتے ہیں

دل ہی دل میں مُسکرانے لگی ہُوں اب تو

نزاکت شاید اِسی کو کہتے ہیں

پرستار ہوُں میں اُس سراپإِ نُور کی

بندگی شاید اِسی کو کہتے ہیں

خُود سے ڈر لگتا ہے

image

خود سے ڈر لگتا ہے کہ

سمندر کی آغوش

میں چُھپ کے

اُس کی دھڑکنوں کے

شور کو سُن کے

جو پُکارتا ہے مُجھے

خود میں سما جانے کو

اور گہرے پُر کشش

نیلے رنگوں میں

گَر کھو جاؤں

تو کیا ڈُوب جانے کا ڈر ہے؟

خُود سے ڈر لگتا ہے جب

خوشبو جو جھانکتی ہے

دریچوں سے تب

میرے جانم کی

کشش سے تڑپتا ہے

وجود کُچھ اِس طرح

کہ شمعٰ کِھنچی جانا

چاہتی ہے باہوں

میں مر جانے کو

تو کیا مُکمّل ہو جانے کا ڈر ہے؟

ہاں خُود سے ڈر لگتا ہے

کہ کہیں موم بن کر

اُس کی ہتھیلی پہ

پِگھل نہ جاؤں اور

قطرہ قطرہ جلوُں تو

یہ کسک بڑھتی ہی جاۓ

تب خود کو سونپُوں

اُس کے شعلوں میں

تو کیا فنا ہو جانے کا ڈر ہے؟

اور خود سے ڈر لگتا ہے

جب چمکتے چاند کے

نُور میں نہا کے

نِکلوں اور ریزہ ریزہ

ہو جاؤں اُس شبنمی

لمس میں نِکھر جاؤں

تو کیا سنور جانے کا ڈر ہے؟

اب خود سے ڈر لگتا ہے

ٹُوٹیں جسم تو

سمبھلیں گے کیسے

پھر اِن زنجیروں

میں جکڑے واپس

لَوٹیں بھی

تو کیا آزاد ہو جانے کا ڈر ہے؟

بے دل خُوشی

image

کوئی مِحفل تیری یاد سے خالی نہیں جاتی اب تو

ختم کر رہی ہے عالمِ بے بسی دل کو دھیرے دھیرے

تماشائی نظر آتے ہیں گِرد و نواہ جال پھیلاتے ہوُۓ

فنا کر رہا ہے حُسنِ بناوٹ احساس کو دھیرے دھیرے

ماندھ پڑ گۓ ہیں آنکھوں کےاُجالے تجھے ڈُھو نڈتے

کاٹ رہی ہے سیاہِ فُرقت  رُوح  کو دھیرے دھیرے

نا پسند خُود نظر آنے لگتی ہوں جب تُو نہ ہو سامنے

چِیر رہا ہے گھونٹِ زہر جگر کو دھیرے دھیرے

آبِ نِیساں

image

نۓ رنگوں میں پَل رہی ہوُں دیکھو

آبِ نوَ میں دُھل رہی ہوُں دیکھو

کچّے تھے جو ذرۂِ مِٹّی کے نِشاں

خاکِ نوَ میں گُھل رہی ہوُں دیکھو

جاگ اُٹھی ہیں بےلگام خواہشیں

حسرتِ نوَ میں ڈَھل رہی ہوُں دیکھو

شب جوان دن بے کل ہُوۓ جاتے ہیں

اُمنگِ نوَ میں جل رہی ہوُں دیکھو

نِکھر رہے ہیں موتئِ سِیپ اور بھی

بارشِ نوَ میں چل رہی ہوُں دیکھو

ساحِر آنکھوں کے ٹکراتے ہی

image

ساحِرآنکھوں کے ٹکراتے ہی
صُبحیں آزاد راتیں قیدی
مُحبّت بے خود، مراسم قرِین ہیں
آدھی سوئ آدھی جاگی حسرتوں میں
پِنہاں بے اِختیار انگڑائیاں اور
اِن میں بَستی جوان ترستی
شبنم کی ذندگی جِن سے
سیراب ہوتی ایک ایک بُوند
جو فریادکرتی ہے ایک گُھونٹ کی

ساحِرآنکھوں کے ٹکراتے ہی
جب بِجلیاں گردِش کرتی ہیں
جُستجو دائروں میں مِل جاتی ہیں
اور کَسمساتی آگ کے ارمانوں تلے
جب ہوتے ہیں اندھیرے اجنبی
تب ایک رُت کی بدلی سے
چھاؤں جھانکنے لگتی ہے اور
سُرخ شرم کے جوبن پر یہ
پھُول مَسلتے رہتے ہیں

ساحِرآنکھوں کےٹکراتے ہی
اَنچھُوئ مست تمنّائیں جَگتی ہیں اور
گرم جذبوں کی حرارت سے
فِشاں ہوتے ہیں راز تب اور
شوخ نظروں سے جام پِیتے ہوُۓ
لَڑکھڑاتے بھی ہیں اور پِلاتے بھی ہیں