نَذرانہ

image

جاتے جاتے وہ مُجھے نذرانہ دے گیا

ہونٹوں کو پیاس آنکھوں کو شرمانہ دے گیا

برق سی لِہر خُونِ جگر چِیرتی رہی

نۓ سِلسلوں کو انداذ قاتِلانہ دے گیا

نظریں ٹِھہری رہیں وقت چلتا رہا

چند بِسروں میں ایک زمانہ دے گیا

چُھپتی رہی شمعٰ جلالِ یار میں

قندِیل کی سوغات میں آشیانہ دے گیا

حِصار

image

نظریں مِلاؤں بھی تو کیسے

ایسے حِصار سے ڈر لگتا ہے

جو تھم چُکا ہے مُدتّوں بعد

ایسے برسنے سے ڈر لگتا ہے

مخملی جال میں بندھی ہو جیسے

ایسی زنجیِر سے ڈر لگتا ہے

گرم بندِشوں کے گھیرے ہوں جیسے

ایسے کھو جانے سے ڈر لگتا ہے

تَپتی دھُوپ کا اُجالا ہو جیسے

ایسے جل جانے سے ڈر لگتا ہے

شمٰع فنا ہُوئ ہے جِس کے لِیۓ

ایسے لُٹ جانے سے ڈر لگتا ہے

پیارا چاند

image

آج دِل پھر غمگین سا ہے

اُس کا وجُود ہم نشیِن سا ہے

سایہ جو ہر سُو پیچھے پڑا ہے

اُس کا سراب دِل نشِین سا ہے

نیند سے بیدار ہوُئ جو کروٹ

خواب کُچھ اُس کا رنگین سا ہے

رُوح میں اُتر گیا جو سانس بن کر

قطرۂِ خُون وہ نمکِین سا ہے

چُرا لِیا جس نے میرا سب کُچھ

چاند وہ تھوڑا ذمِین سا ہے