…اِسی اِنتظار میں

image

دیکھ رہے ہو تُم ہر لمحہ مُجھے محفل ہو یا تنہائی

جُدا ہوُۓ ہم ٹھہری رہی نظر آنکھوں میں جذب ہو کر

عالمِ وصل پہ نہ کوئی اِختیار نہ جور و جفاکی بندش

بدن جُدا ہُوۓ رُوح گُھل گئی سانسوں میں جذب ہو کر

نگاہِ شوق کی عِنایت سے ہُوۓ میرےجان و تن فروزاں

اندھیراسوۓ چاندنی اُترنےلگی دھڑکنوں میں جذب ہوکر

خائِف ہوتا ہے دل ہِجر کی آزمائش سے جب بھی گُزرے

لمحہ غرُوب ہُوا جاگ اُٹھی قُربت کرنوں میں جذب ہو کر

احساسِ دُوری کی کسک نے دلاۓ ہیں یاد نشِیلے پَل

لَب خُشک ہُوۓ اور بھیگتے گۓ آہوں میں جذب ہو کر

One thought on “…اِسی اِنتظار میں

Leave a reply to fbali Cancel reply