اَندازہ

IMG_1648

نرم ہونٹوں کی شبنم

صندلی ہاتھوں کی خوُشبو

شوخ دل کی دھڑکن

…مُجھے یاد تو کرتے ہوں گے روزانہ

روشن آنکھوں کے ستارے

چُنتی راہوں کے پھُول

اُبھرتی رات کی چاندنی

…میری تمنّا تو کرتے ہوں گے روزانہ

آدھے خواب کے قِصّے

بے چین کروٹ کی کسک

نم آنکھوں میں خواہش

…میرا رستہ تو دیکھتے ہوں گے روزانہ

2 thoughts on “اَندازہ

Leave a reply to Umar Ahmad Cancel reply