لا تعلّقی

781E26D1-7775-41E7-ACA8-5D4D72E81A81

اُس شہر سے اب گُزر

نہیں ہوتا

کبھی جہاں آنا جانا

تھا ہمارا اکثر۔۔

کبھی جہاں سُرخ دھُوپ

چومتی تھی بدن سبز چمن کے

اور مُلائم لمس جلتے

بُجھتے رہتے تھے۔۔

اُس شہر سے اب گُزر نہیں ہوتا

جہاں کی صبا میں تھی

خوشبو عِطر سی اور

لبوں کی پیاس پر جوبن

تھا کمال سا

تب گیلی مِٹّی  پڑتی تھی

پھُوار بن کے یوں۔۔۔

اُس شہر سے اب گُزر نہیں ہوتا

کبھی جہاں کے لمحوں سے

جُڑے تھے میری کسک کے

سلسلے اور دل کی سڑک پہ

رفتار رقص کرتی تھی

دھڑکن بن کے۔۔۔

اُس شہر سے اب گُزر نہیں ہوتا

جہاں اُٹھاتے تھے ناز کلیوں کے

گُلشن اور جھُکے جاتے تھے

سَر عشق کے دربار میں۔۔۔

اُس شہر سے اب گُزر نہیں ہوتا

جہاں آنا جانا تھا ہمارا اکثر۔۔۔

2 thoughts on “لا تعلّقی

  1. Dear t i am again starting your sweet poetry in my newspaper just need your approval  Best Regards, Manzoor Hussain Executive EditorDunya International, NY Washington, Tokyo (Japan) Daily Dunya Islamabad (Pakistan) Office – 718-421-1684 Fax – 718-421-0058 Cell -718-509-5522 Visit our website @ www.dunyaintl.com

    Like

Leave a reply to Esma Cancel reply