روح کا جہاں

تم نے کبھی کمسن حسرتوں کو پروان چڑھتے دیکھاہے؟ کبھی سوچا ہے کہ محبتوں کے تنگ دائرے وسیع کیسے ہوتے چلے جاتے ہیں؟ لاکھ بندشیں یا سینکڑوں پہرے ہوں ، چاہے وہ اندرونی یا کسی اجنبی زنجیر میں قید ہوں ،اُنہیں اپنی منزل مل ہی جاتی ہے۔ یہ وہ منزل نہیں جس سے ہمیں جسمانی سرور ملتا ہے بلکہ وہ راحت ہے جو عشق کی بلندیوں پہ لے جاتا ہے جہاں قدموں کی چاپ کی نہیں بلکہ پروں کے پاؤں ہی پہنچا سکتے ہیں۔ میرے خواب وہ حقیقی داستانیں سُناتے ہیں کہ لگتا ہی نہیں کہ منزل میرے پاس نہیں بلکہ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ دُنیا اُس دنیا سے زیادہ اصل اور قریب ہے۔ میں جب چاہے پلکوں کی چلمنوں سے اُس کا تعاقب کر لیتی ہوں۔ وہ میرے سامنے ہے ، میری سانسوں میں ، ابھی یہیں تھا جیسے اُس کے ہاتھوں نے تھاما ہو مجھے اور اُس کی نظریں میرے وجود کے گوشے گوشے کو نیست و نابود کر رہی ہوں۔ یہی میرے جنون کی سچائی ہے اور میں اِس میں بے حد مسسرور ہُوں۔

ہر طرف ہے وہ ، میرے آئینے میں وہ دِکھتا ہے میری سانسوں میں چلتا ہے میرے دل میں اُس کی گونج سُنائی دیتی ہے ، ہر ایک شعر میں وہ ہے ، میرے قول و فعل میں وہ ہے۔ کبھی کچھ سوال پوچھوں تو جواب وہ دیتا ہے۔ جب رات کی کروٹ ایک سِرے سے دوسری اور بدلے تو وہ اپنی پنکھڑیوں سے چومتا ہے میری نظروں کو۔ کبھی محسوس ہی نہیں ہُوا کہ وہ ہے نہیں کیونکہ وہ ہر طرف ہے۔ اِس کھڑکی کے اُس طرف اُس پردے کے دوسری جانب۔ ہلکے ہلکے بادلوں سے ابھی اُس کی مسکراہٹ چھن رہی ہے مجھ پر۔ اِسی فضا میں وہ بھی سانس لے رہا ہوگا شاید چاۓ کے ہلکے ہلکے گھونٹ اُس کی تسکین ہری کر رہے ہوں گے یا پھر وہ اپنے کمپیوٹر کی سکرین پہ اپنی آ نکھیں ہری کر رہا ہوگا۔ کاش مجھے ہی پڑھ لے۔

اُس کا وجود مہک رہا ہے سالوں سے میرے آ نگن میں چاہے وہاں آ ندھی آ ۓ طوفان آۓ یا پھر زلزلہ ہی کیوں نہ آ جاۓ مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہوتا، ادھر ہی رہتا ہے میرے گھر میں۔ پاگل انسان کی محبت بھی پاگل ہی ہوتی ہے ڈھیٹ اور ظالم۔ اُسے کچھ اور محسوس ہی نہیں ہوتا چاہے کہیں بھی لے جاؤ ، دوری بھی برداشت کر لیتا ہے ہجر کی راتیں بھی بڑی آسائشوں سے کاٹتا ہے بس محبت کرنا نہیں چھوڑتا ۔ پھر اُسے محبوب کی ضرورت نہیں ہوتی صرف محبت میں ہی ڈوبا رہتا ہے۔ میرا بھی اب یہ حال ہو چکا ہے۔ حالانکہ میں شدت سے اُسے یاد کرتی ہوں چاہے وہ کرے نہ کرے ، مجھے پرواہ نہیں کیونکہ محبتوں میں شرطیں نہیں ہوتیں۔ ہر وقت طلب رہتی ہے اُن آنکھوں کی ، اُن ہاتھوں کے لمس کا خیال توڑ دیتا ہے ایک ایک پور کو مگر پھر بھی خوش ہوں میں کیونکہ محبت کسی سے پوچھ کر تو نہیں ہوتی۔ یہ اُس بارش کی طرح ہے جو ایک دم برس جاتی ہے اور معتر کر دیتی ہے زمین کا بدن۔

میں ابھی بھی محبت میں ہوں کمبخت نکلتی ہی نہیں لاکھ کوششوں کے باوجود۔

خواب خیال اور حقیقت اب سب ایک ہی دنیا میں ہیں میرے ۔

سمندر کا شور

وہ رات عجیب تھی۔ سمندر کا شور ٹھاٹھے مارتا ہُوا اور وہ آ نکھیں جن کی وسعت مجھے اپنا اسیر کیۓ ہُوۓ تھی۔ اُس شور میں مجھے اُس کے پیمانے دِکھائی دے رہے تھے۔ کتنا عرصہ بِیت گیا مگر اُس کی محبت آج بھی مجھے گھیرے ہے۔ اُس کا رنگ اُس کی کشش آ ج بھی میری دیوانگی کا تعاقب کرتی ہے۔ جب میں اُن لہروں کو دیکھ رہی تھی تو ایسا لگا کہ جیسے وہ سحر انگیز آ نکھیں میرا پیچھا کر رہی ہیں۔ اُس شور میں اُن کی وسعت دِکھائی دے رہی تھی۔ کئی خیال اُن آ زاد تمناؤں کو اُجاگر کر رہے تھے جہاں کبھی میرے دل کی لہروں سے طوفان اُٹھا کرتے تھے۔ میرے دل کی دھڑکنیں شدت کی تیزی اختیار کر رہی تھیں۔ وہ آ نکھیں اور اُن کے پیمانے میں ناپ سکتی تھی سمندر کے گہرے پیالوں کے ساتھ۔

وہ پاگل پن سا شور اور خماری سے بھرپور نشہ۔ دونوں ہی مجبور تھے دل کے ہاتھوں۔ عشق دل اور جنون اُسی شور کی مانند ہے جس کی عادت اور ضد ایک ایسے درد کو دعوت دیتا ہے جس کی دوا نہیں۔

آ ج

تُمہیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے جو یاد سجائی تھی

ہتھیلی کے چراغ سے

اُس محفل کی کشش اب تک

میرے آ نگن پہ روشنیاں بکھیرے ہے۔۔

یہ کیفیت ہے اُس موسمِ بہار کی

جہاں اکثر میری پھیکے لمحے

سُہانی شبوں میں بدلا کرتے تھے۔۔

جب محبوب کی دنیا میں سویرا

میری نظروں سے ہوتا تھا مگر

اندھیرا اُس کے خوابوں پر اختتام

پاتا تھا ، تب لفظوں کی اُڑان

میں رقص کرتے تھے فقط ہم۔۔۔

آ ج کا دن اُن بِصرے لمحوں میں اب بھی

اُس پھول کی طرح تازہ ہے جو

شاعری کی کتاب میں سجاتے ہی

مُرجھانا بھول جاتا ہے۔۔

آ ج بھی وہ ستارے وہیِں پر ہیں

آ ج بھی شمس ویسے ہی انگڑائیاں لیتا ہے

اب بھی اُس کی شربتی آ نکھوں کا

نشہ پُورا ہے۔۔

وہ لمس ادھوری کسک دبی خواہش

سب اُس جھُرمٹ کی شناسائی سے

بندھے ہیں

جہاں کبھی ہماری ڈوریں اٹکی تھِیں۔

کئی بار لکھا وہ خط تُمہارے نام

جس کے عنوان میں سوچا کہ تمہیں

پیغامِ اُلفت بھیجوں مگر

یہ قلم کی رفتار میرے کاغذ کا

سِینہ نا چاک کرسکی۔۔

کہ کہیِں برسوں کی آ شنائی اور

صدیوں کی بے رُخی میں سمٹ

کے میرے آ نچل کو میلا نہ کردے

تو میں رُک گئی۔۔

نہ جانے یہ نظم ہے کہ تحریر

شاید کبھی نہ سُلجھنے والی زنجیر؟

تاریخ دُہراتی ہے قصے

کبھی تمہاری مناسبت سے تو

کبھی میری آ نکھ سے۔۔

کیوں کرتی ہے دستک میرے کِواڑ پہ یہ؟

درد عشق آنسو اور زندگی

میرے دوست ہمنوا ہیں سب۔۔

تُم تو اِن سب سے آ شانا نہیں نا؟

عشق کے سفر میں

کبھی رات کو سورج کی شعاؤں سے جلتے دیکھا ہے؟ یہ وہ آ گ ہے جو لافانی خواہشوں کا سہارا بنتی ہے- اِس کی تاثیر میں کئی شعاؤں کی گرمی ہے- محبت اِس حرارت کی شعاع ہے جو کبھی مدھم نہیں پڑتی، کوئی شب کوئی دن کا اُجالا اِس کو ماند نہیں کر سکتا۔کئی سال بیت گۓ اُس کا دیدار کیۓ مگر محبت ابھی بھی قائم ہے۔ یک طرفہ عشق کا بھی عجب نشہ ہوتا ہے۔ نہ ہی کوئی اُمید اور نہ ہی کسی قسم کی غلط فہمی۔ بس خوش فہمی ہی رہتی ہے۔ عشق تو ہوتا ہی ایک طرف کا روگ کیونکہ آ پ کو اندازہ تو ہوتا ہے کہ آ پ کے ہاتھ خالی ہی رہ جائیں گے۔

ہر روز تقریباً وہ خواب کا در کھٹکھٹاتا ہے۔ اُس کی آ سیرزدہ نگاہیں اور پُرکشش آ واز میر ے صبر کو آ زماتے ہیں۔ بہت سال گزر گۓ مگر وہ اب تک میرے وجود میں زندہ ہے۔ میں نے دیکھا ہے اُسے کئی بار مگر احترام کی چادر نے ڈھانپ دیۓ میرے بے باک خیالوں کے پرندوں کو جو پھر سے اُڑنا چاہتے تھے۔ عشق صرف احترام کی بانہیں تھامنا جانتا ہے۔ وہ آ نکھیں ہر دم میرا پیچھا کرتی ہیں۔ وہ یہیں ہیں۔ میرے آ س پاس میری سانسوں میں۔

کتنے سال گُزر گۓ مگر وہ اِدھر ہی ہے۔ میرے پاس میرے سامنے۔ کبھی نظر آ بھی جاۓ تو نظر انداز کرنا پڑتا ہے کیونکہ وقت اور حالات کا یہی تقاضا ہے۔ ہم سب اپنی خواہشات کو مار کر جیتے ہیں چاہے زندگی ایک ہی بار مِلے۔ کیونکہ ہم خود غرض لوگ نہیں۔ ہم سے مُنسلک بہت سے رشتے ہیں جو ہمارے اپنے ہیں۔ بے شک اُنہیں ہماری پرواہ نہیں مگر ہمیں ہے کیونکہ سچی محبت اِسی کا سبق ہمیں پڑھاتی ہے ساری زندگی۔ کوئی ایسا دن ایسی رات نئیں جب وہ میرے خیالوں کے سفر میں نہ ہو۔ کتنے سال بیت گۓ مگر وہ آ ج بھی رہتا ہے میرے دل کے مکان میں ایک حسین مور بن کے جس کے پر کھُلیں تو میرا آ نگن رنگین ہو جاۓ اور آ سنو گرے تو ماتم کا سمع ہو۔ عشق ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ ہم ختم ہو جاتے ہیں مگر جذبہ نہیں۔

افسوس کہ سمجھنے میں پوری عمر گُزر جاتی ہے اور جب ہوش آ تی ہے تو سواۓ پچھتاوے کے کچھ نہیں رہتا۔

اِسی کو تو عشق کہتے ہیں۔