
اردو نظم


ہم کیا ہیں؟ مِٹّی کے ڈھیر میں دبے چند ورق یا پھر زندگی کے قلم سے لِکھّے وہ اشعار جنہیں اب کوئی پڑھتا بھی نہیں۔ میں نے زندگی کو بہت قریب سے محسوس کیا ہے۔ کبھی وہ خود غرضی میں لِپٹی کوئی دا ستان ہے یا پھر کسی درد کے لحاف میں رچی کہانی۔ مُحبّت ایک ایسی رُباعی ہے جس کے سُر کبھی بِگڑتے تو کبھی ناچتے نظرآتے ہیں۔
میں نے بھرپُور گُزاری ہے یہ حیات۔ مُحبّت میں گِھرے رشتے ہوں یا حسرتوں میں جاگتے خواب ، اِن سبھی خواہشوں کے سرہانے میں نے گُزاری ہیں اپنی راتیں۔ ایک نۓ چہرے کا اِنتخاب ، اِک نئی لگن کا اِنتظار کیا ہے میں نے۔
جب بھی وہ مُجھے مِلا ، ایک نیا دھوکہ ایک سراب مُجھے مِلا میرا خیر مقدم کرنے کے لیۓ۔ زندگی ہے کیا؟ اِس کا کیا مقصد ہے؟
میں اب تک سمجھ نہیں پائی۔
عشق مُحبّت یا پھر کوئی سراب؟
وہ مِلا بھی پر ایک کہانی بن کر۔ ایک شعر بن کر۔ شاید وہ چاہتا تھا کہ میرے اشعار میں وہ ایک کردار بن کر جِیۓ۔
مگر شاید میں ہی اُس کو داستان بنانا چاہتی تھی۔


چلو پھر پیڑِ راہ گُزر نِصف بانٹ لیں
کُچھ سرُور بقا کا رنج و غم بانٹ لیں
سیاہ رات کے نیم جواں فسانے اور
ماضی کے معصوم ناکردہ گُناہ بانٹ لیں
شمسِ لمس و تپِش میں چُور سُنہری جسم
اِس رنگِ خوشبو میں دُھلے جذبات بانٹ لیں
جو تھی پرائی خوشی منسُوب اُس کے نام سے
وہ مشترکۂِ احساس و شناخت بانٹ لیں
کبھی تو لگتا تھا کہ یہ سب ایک حقیقت ہے۰ مگر وقت سب سے بڑا اُستاد ہے۰ یہ وہ ھی سِکھا دیتا ہے جو انسان سیِکھنے سے قاصِر ہے۰ محبتوں کی خواہش کرنے والوں کی یہی سزا مُقرّر ہے۰ یہ ایک لا حاصل سا فرار ہے جہاں کوئی پُہنچنا بھی چاہے تو نہیں پُہنچ سکتا۰ کبھی لگتا تھا کہ مُحبّت سے اعلیٰ کوئی جذبہ نہیں مگر یہ سب ایک جھوٹ ثابت ہُوا۰
جن اَنکھوں کو یاد کر کے راتوں کی چاندنی کو ماندھ کیا ہے وہ اب دن کے اُجالے میں کبھی تپِش تو کبھی آگ بن کر برستی ہیں۔
وہ شاید اُس ٹُوٹے تارے کے مانند تھِیں جسے اپنی خود کی منزل کا پتا نہ ہو۰ اور میں پاگل محض ایک سراب بن کے رہ گئی۰
حُسن کے گُلدستے میں لِپٹی کوئی غزل یا پھر مُرجھاۓ پھُولوں کی باسی مِہک۰
مُحبّت عشق سب بے وفا اور زندگی ایک دھوکہ۰
وہی دن ہیں وہی شامیں اور اُن میں چھُپی ہُوئی کہانیاں بھی وہی پُرانی ہیں مگر راتیں نئی سی ہیں۔ ہر بار ایسے ہی لگتا ہے کہ روز ایک انجانی کہانی ایک نۓ انداذ میں آپ کا تعاقب کر رہی ہوتی ہے۔ ایک نو خیز کروٹ تو کبھی روشن صُبح کی طرح جواں اِنتظار میں بیٹھی اُسے کھوج رہی ہوتی ہے۔ کئی سال بِیتے مگر تنہائی اور نئی کہانی کا ہمیشہ اِنتظار کیا ہے۔ کیا یہ میری اپنی راتیں ہیں یا پھر پرائی؟
کبھی دل تو کبھی رُوح کا قِصّہ لے کربیٹھ جاتا ہے کمزور لمحہ اور کبھی تو چاند کی شوخی ماندھ دِکھائی دیتی ہے۔۔ یہی ہے شاید پُرانے سِلسلوں کی ادھورے چاہت جو کبھی مکمل نہی ہوتی اور شاید اجنبی راتوں کے بِکھرتے فسانے۔


