…مُنتظِر ہُوں

image

کل پھر نۓ دن میں شمس چُومے گا قدم

کل پھر نۓ راستےکریں گےسجدےراہوں میں

کل پھر نۓ گُلوں میں رنگ بکھیرےگی خوشبو

…کیونکہ مُحبّت کا ساتھ دے گی آشنائی

کل پھر نئی قُربتیں کریں گی دل آزمائی

کل پھرنئی مُلاقاتیں ہوں گی شباب پراپنے

کل پھر نئی آوارگی میں جھَلکےگی بےخُودی

…کیونکہ مُحبّت کا ساتھ دے گی رہِ نُمائی

کل پھر نیا ساز چھیڑے گا موسیقی کے تار

کل پھر نیا مِےکدہ کھولے گا دَر خُمار کا

کل پھرنیاانداز کرےگا دیوانہ اپنی چاہت سے

…کیونکہ مُحبّت کا ساتھ دےگی شناسائی

تعارُف

image

اِن آنکھوں میں خود کو دیکھتے ہو جب بھی

اپنے آپ سے مِل کر خوش ہوتے تو ہو گے

اِس دل پہ دھک دھک کرتی ہیں دھڑکنیں

اپنا نام سُن کر خوش ہوتے تو ہو گے

اِس عکس میں انجان شبِیہ ڈھلتےدیکھو

اپنا چہرہ دیکھ کر خوش ہوتے تو ہو گے

اِن خیالوں کی دہلیز پہ آہٹ ہے جس کی

اپنا سایہ دیکھ کر خوش ہوتے تو ہو گے

اِس چِلمن میں جلاتا ہے چراغ جس کو

اپنا جوش دیکھ کر خوش ہوتے تو ہو گے

لِباسِ مجاز

image

لِباس نہیں تُمہیں اوڑھ

لیتے ہیں جانم کہ سِتارہ

آنچل کی رعنائی میں

پوشیدہ حُسن و شباب کے

بےخُود ساۓ کِسی اور

احساس کی رنگت پہچانتے

…..نہیں ہیں

سُرخ نیلم اورکبھی سونے

کی تاروں میں جڑے نَگ پھِسلتے

ہیں بدن کی سِلوٹوں کو چُومتے

تو اِس کی کشِش کسی اور

لمس کی گرمی پہچانتے

…..نہیں ہیں

اِس خیال میں اگر مخملی

دامن میں چُبھنے لگیں

کانٹے تو نرم شبنمی کلیاں

سرُور دینے لگتی ہیں اور

کھِلتے ہیں چمن جن کی

مِہک  کے سِوا یہ دھاگےکِسی

اور خوشبو کو پہچانتے

…..نہیں ہیں

چَند آزاد پَل

image

ہم ہیں تنہائی ہے اور لمحے

حدّت کے گھیراؤ ہیں اور لمحے

قُربت کے مراسم ہیں اورلمحے

….نہیں جانا اِن بانہوں سے دُور ہمیں

خوُشبو ہے لمس ہے اور لمحے

نشے کے مست جال ہیں اورلمحے

اداؤں کے بھنور ہیں اور لمحے

….نہیں جانا اِن فضاؤں سے دُور ہمیں

جوانی ہے اُڑان ہے اور لمحے

شِدّت کے قیدخانے ہیں اورلمحے

شراب کی جھیلیں ہیں اورلمحے

….نہیں جانا اِن سَراؤں سے دُور ہمیں

جنُون ہے سمندر ہے اور لمحے

لب کےبھڑکتےشُعلےہیں اورلمحے

شمعٰ کی بہکتی موم ہےاورلمحے

….نہیں جانا اِن پناہوں سے دُور ہمیں

دَستک

image

اُن دنوں اُمنگ پہ جب خُمار تھا

خِزاں کی اُڑتی چَڑھتی سُرخی کا

اور جھانکتی تھی بہار دریچوں

سے تب ہوا اُڑا لے جانا چاہتی تھی

…ارمانوں کو پَر تُم نہیں تھے

اَب جب مِلے ہو تو ارمانوں پہ

….بہار ہی بہار ہے

اُن دنوں جب پیاس چاہتی تھی

سمندر سے گھُونٹ پینا اور بُوند

بُوند کی مُحتاج تھی آس تب

احساس جَگتا تھا ڈُوبنے کا

…پَر تُم نہیں تھے

اَب جب ملے ہو تو پُورا سمندر

….میری آغوش میں ہے

اُن دنوں جب ہاتھ بڑھاۓ تھے

چھُونے کو بے باک کلیوں کے بدن

اور جھرتی رہِیں ہاتھوں سے سبھی

آرزوئیں تب ہونٹ چاہتے تھے چُومنا

….پنکھڑیوں کو پَر تُم نہیں تھے

اَب جب ملے ہو تو لبوں کے کھِلتے

…گُلاب صرف پیِنا جانتے ہیں

اُن دنوں جب نۓ راستوں پہ چلتے

پُرانے آنگن میں ڈھلتے چاند کے سرہانے

بیٹھی ہُوئی مدھم حرارت میں چنگاری

ڈھونڈ رہی تھی تب نظریں ترسی تھیں

…اُس روشنی کو پَر تُم نہیں تھے

اَب جب ملے ہو تو ہر شب چاند کی

…کِرنیں سجدے مُجھے کرتی ہیں

اُن دنوں جب شِدّت بدن میں کروٹ لیتی

تھی اور انگڑائی کی نئی جُستجُو جگاتی

تھی کئی خواہشیں تب سانسیں مِٹ جانے

…کو بے چین تھیں پَر تُم نہیں تھے

اَب جب ملے ہو تو دھڑکنوں پہ دستک

….روز کرتی ہیں تُمہاری سانسیں

تُم مُجھ میں

image

میں تُم میں تُم سے زیادہ

تُم مُجھ میں مُجھ سے زیادہ

آدھے بھرے پُورے چھَلکے

بِہکے تُم میں مے سے زیادہ

نَس نَس چُبھتا قطرہ نمکیِن

دوڑے مُجھ میں زہر سے زیادہ

تباہ ہے ذات فنا ہے جسم

اُترے تُم میں رُوح سے زیادہ

اشک چھُوتےکنارےجنوں کے

بِہتے مُجھ میں خون سے زیادہ

انجان ہے گُونج سرگوشی سے

ٹھہرے تُم میں سُر سے زیادہ

حَسرت

image

رات بھر تارے جگتے رہیں

اور صُبح کی نیند پُوری نہ ہو

نظروں میں جُگنو جلتے رہیں

اور روشن کبھی سیاہی نہ ہو

بارش ٹُوٹ کے برستی جاۓ

اور دھُوپ کی آنچ سُنہری نہ ہو

ارماں میں ڈُوبتا جاۓ سمندر

اور پیاس کی حد تھمی نہ ہو

لَب کے پیالے سیراب رہیں

اور شبنمی کَلی پھِیکی نہ ہو

گُلوں میں رنگ خوب سجیں

اور شاخوں کی رَگ ہری نہ ہو

ریشم سے پِگھلے موم سابدن

اور شمعٰ کی لَو دھیمی نہ ہو

نِجات

image

تنہائی میں گِھرےگی

تو غُلامی ملے گی

شِدت میں گُھلےگی

تو کسک ملے گی

آہوں میں رُلے گی

تو ضَرب ملے گی

لمحوں میں گِرے گی

تو چھاؤں ملے گی

خواب میں ڈھلے گی

تو بیداری ملے گی

اوس میں دُھلے گی

تو بارش ملے گی

چنگاری میں جلےگی

تو رہائی ملے گی

عشق میں مِٹے گی

تو خدائی ملے گی

آشنا دھڑکن

image

وہ سماۓ مُجھ میں تو چندن بنُوں

گر میں اُترُوں تو وہ داستان بن جاۓ

وہ رہے مُجھ میں تو گھر بنُوں

گر میں بسُوں تو وہ سمندر بن جاۓ

وہ سوۓ مُجھ میں تو سویرا بنُوں

گر میں جاگُوں تو وہ خواب بن جاۓ

وہ ٹُوٹے مُجھ میں تو انگڑائی بنُوں

گر میں بِکھرُوں تو وہ کسک بن جاۓ

وہ بَہے مُجھ میں تو لِہر بنُوں

گر میں ڈوُبُوں تو وہ پیاس بن جاۓ

وہ جلے مُجھ میں تو شمعٰ بنُوں

گر میں پِگھلُوں تو وہ موم بن جاۓ

…اَگلی مُلاقات تک

image

…وعدہ کرو کہ

شبِ ہِجر مُختصر ہوگی

سُرخرُو ہوگا صبرِ قلب

اِنتہا بنے گی حاصلِ سفر

…یاد رہے کہ

رنج و غم حریف ہو جائیں

مِحفلِ لمس چھُوۓ شِدّت

وصلِ مُحبّت یادگار بنے

…بھُول جاؤ کہ

ساحرِ شمعٰ کے سِوا کُچھ ہے

دن و رات وقت کے غُلام ہیں

مُحتاج ہیں ہم بندِشِ فرض کے