بِسری چَمک

image

اَب نہ غُنچہ کِھلے نہ پتّے ٹُوٹے

کبھی سنورتا تھا وہاں گُلستاں

اَب نہ چھاؤں رہی نہ دھُوپ اُگی

کبھی نکھرتا تھا وہاں آسماں

اَب نہ شبنم گِری نہ موم جمی

کبھی چمکتا تھا وہاں آشیاں

آب نہ دَور گُزرے نہ زمانہ رُکے

کبھی سجتا تھا وہاں کارواں

آب نہ دن سوۓ نہ شب جگے

کبھی بَستا تھا وہاں جہاں

خوابِیدہ پَل

image

تھک کے جب وہ سوتا ہوگا

اور نیند کے دروازے اُن جھروکوں

میں کُھلتے ہونگے تب ایک سراب

جلتی شمعٰ لیۓ خوابِیدہ آنکھوں

…کی طرف بڑھتا جاۓ گا

جلتی مشعٰل لیۓ اپنے پیراہن

میں لپیٹے جس حدّت سے اُن

دھڑکنوں کے در پہ دستک ہوگی

تب گرم لبوں پہ مدھم سی

…ہنسی بِکھرتی جاۓ گی

اُن آرام پَلوں میں ٹَٹولتی بےچین

سانسیں سرُور کے میٹھے پیالوں

کا رس پینے لگیں گی تب کہِیں

مچلتی چِنگاریاں رُوح کو ہلکا سا

…بِھگوتی نظر آئِیں گی

فِردوس اُس پیکرِ عشق کی آرزو

میں اپنے جوبن سےجب اُن کناروں

کو درخشاں کرے گی تب شجر کی

ڈالیاں اُسے پھُولوں سے نہلائیں گی پھر

اُس راہ سے اِس منزل کا سفر پل بھر

…میں پار ہوتا جاۓ گا

اُن بےخبر نینوں میں چُھپی حسرتوں

کے کِھلتے چمن اُس کے بدن کو گُدگُدانے

لگیں گے تب اِس چاؤ کی لگن

اُسے آہستہ آہستہ نیند سے بیدار

…کرتی جاۓ گی

اور وہ واپس حقیقت میں لَوٹ آۓ گا

مَظہرِاُلفت

image

تُمہیں یاد آتی ہے میری جیسےصحرا کو بارش کا اِنتظار ہو

کیا تُم جانتے نہیں برستی ہےبارش ہی دشت میں مِل جانےکو

جن نشیلی عادتوں میں لگ رہی ہُوں خود کو بھُولتے بُھولتے

کیاتُم جانتے نہیں یہ ساقی کی نظروں سے پلایا ہُوا جام ہے

اِس وحشتِ ہِجر کے وصل سے چُرانا چاہتی ہُوں اب تُمہیں

کیا تُم جانتے نہیں آرزُو میں کشِش جگاتی ہے دُوریاں ہی

جس درد و رنج میں تُم سِمٹو وہ کسک گھاؤ سے آشنا ہے

کیا تُم جانتے نہیں اِس روگ میں چارہ گَر بھی زخم کھاۓ ہے

جب بھی سوچیں تُمہیں مہکنے لگتے ہیں جسم کے گُلِستاں

کیا تُم جانتے نہیں چمن میں خطاوارکہلاتا ہےگُلشن فروز ہی

جنہیں پا کے آراستہ ہیں در و بام میرے آشیانےکے گرچہ

کیا تُم جانتےنہیں روز آنگن میں میرےدُلہن بن کےسجتی ہے رات

تُمہاری پَرچھائیاں

image

گُلشن گُلشن رُوح کھِلتی گئی

تُمہیں دیکھا شام مہکاتے ہُوۓ

جھرنوں کی لےمیں بِہنے لگی

تُمہیں دیکھا پیار برساتے ہُوۓ

پہاڑ سُناتے رہےمست کہانیاں

تُمہیں دیکھا گِیت گُنگناتے ہُوۓ

ستارےسےکہکشاں بنتی گئی

تُمہیں دیکھاعرش پہ مُسکراتے ہُوۓ

سمندر میں ڈُوب رہی تھی پری

تُمہیں دیکھا لہروں میں آتے ہُوۓ

رنگین تِتلیوں کو اُڑاتاگیاآنچل

تُمہیں دیکھاہوامیں بَل کھاتے ہُوۓ

آبشارسے سُنی نشیلی رُباعیاں

تُمہیں دیکھا جام پِلاتے ہُوۓ

شمس کی پلکوں میں اُتری چاندنی

تُمہیں دیکھا خوُد میں سماتے ہُوۓ

جھیل سرہانےکنول میں سوئی

تُمہیں دیکھا عکس چُراتے ہُوۓ

وادیوں میں دھڑکنوں کا شور سُنا

تُمہیں دیکھا باہیں پھیلاتے ہُوۓ

بادلوں کی آغوش میں چلتی گئی

تُمہیں دیکھا نظر اُٹھاتے ہُوۓ

…رُوبرو ہُوۓ کئی بار

image

ہر موڑ پہ اُن ہاتھوں

کی نرمی میرے سفر

کو دلکش بناتی رہی

اور اپنی باہیں میں اُس

…سِمت پھیلاتی رہی

ہر موڑ پہ وہ مُسکراہٹ

ایک چمکتے سمندر کی

طرح مُجھے مِلی جدھر بھی

…یہ دل گیا

ہر موڑ پہ اُس نگاہ

نے خُوشگوار کیۓ میرے

راستے جب جب بادلوں پہ

…پاؤں میرے پڑے

ہر موڑ پہ وہ باہیں مُجھے

بُلاتی رہیں جن کےدائروں

میں چُھپ کے تصویر

…میری بنتی گئی

ہر موڑ پہ اُس آواز

نے کئی بار نام میرا لیا

اور میں کھچتی گئی اُن

…صداؤں کی جانب

ہر موڑ پہ اُن قدموں

کی آہٹ نے روکنا چاہا

مُجھےاور میں چُنتی گئی

…وہ پُر کشش نِشاں

ہر موڑ پہ اُس شخص

کی خوشبو نے پِیچھا کیا

میرا اور میں اِس تلاش میں

…جذب ہوتی گئی

 

محبُوب کی دنیا میں

image

سَرسَرسرکتی ہوائیں جہاں مدہوش ہوکرجھُومنےلگیں

جذبات کے پردوں پہ جہاں مخملی جال بِچھتے ہوں

دلکش انداز میں جہاں سجتے ہوں گُل و شجر بھی

….وہ شہر میرے جانم کے نام سے پہچانا جاتا ہے

جہاں سحر و شب چاندنی سجدے کرتی ہو

جہاں ہر پل بارش ٹُوٹ کے برستی ہو

جہاں دھنک کے آسمان میں حُسن کھیلے

….وہ شہر میرے دلبر کی دھڑکنوں سےمنسُوب کیاجاتا ہے

جس کی مِہک میں کِھلنے لگیں جسم و جان

جس کی ذُلف کو چُومیں تو ریشم بَنیں

جس کی سانسوں میں سمندر سی بے چینی ہو

….وہ شہر میرے محبُوب کی خوشبو سے یاد کیاجاتا ہے

جہاں دل عبادت میں صرف اُس کا نام لے

جہاں اُس چہرے کے سامنےسورج بھی ماندھ پڑے

جہاں سوآسمان بھی کم ہوں اُن بانہوں میں گُم ہو نےکو

….وہ شہر میرے گُلفام کے وجود سے جانا جاتا ہے

…ایک پہیلی ہُوں

image

میں ایک خیال ہُوں جس کی

…حیِثیّت سیِپ میں بند موتی سی ہے

کوئی سراب ہُوں جس میں

…گُم ہو جانے کا ڈر ہو

ایک مُرجھایا گُلاب ہُوں جس کے

…رنگ میں شوخی کمال کی ہے

یا صرف ڈھلتی شام جس کے

…آسمان پہ شمس کا گُزر نہ ہو

شاید تَپتی ریت ہُوں جس میں

…جلنے سے راحت بخشتی ہےپیروں کو

وہ چاندنی ہُوں جس کے

… داغ میں جھیل آئینہ دیکھتی ہے

کبھی نرم احساس کا بِچھونا جس کے

…آنچل میں کانٹوں کے گُلدستے ہیں

یا صرف ڈُوبتا سمندر جس میں

…فنا ہونے کا خوف بھی نہیں

میں وہ پرچھائی کو اوڑھے ہُوں جو

…اپنی شناخت ڈھُونڈ رہی ہے

کوئی سایہ ہُوں جو فقط

…چھاؤں میں نظر آۓ

ایک خواب کی ذینت ہُوں جس کی

…شان میں حقیقت سجدے کرتی ہے

کسی مہربان کا عکس جس کا

…آئینہ ریزہ ریزہ  ہو گیا ہے

کوئی بِسری داستان ہُوں جس کو

…یاد کرنا دُشوار ہے

یا پھر سِسکتی شمعٰ جس کے

…جنون کو ایک جھونکے کا اِنتظار ہے

اِجازت

image

تُم کہتے ہو جاناں جی بھر کے نہ دیکھیں ہم تُمہیں

اِجازت دو کہ تُمہیں جُھکتی پلکوں میں چُھپاسکیں ہم

تُم کہتے ہو پیامِ مُحبّت نہ عیاں ہو چہرے سے کِہیں

اِجازت دو کہ حالِ دل آنسوؤں میں ادا کر سکیں ہم

تُمہیں ڈر ہے ٹکرا نہ جائیں کہِیں چلتے چلتے دو دل

اِجازت دو کہ یہ پل احساسِ خوشبو سےبھر سکیں ہم

تُمہیں ڈر ہےدھڑکنِ دل کا شورنہ سُن لیں غافِل کہِیں

اِجازت دو کہ سوزِ ساز میں چُور حال سُنا سکیں ہم

تُم کہو تو کترا کر گُزر جائیں اِس مقامِ وصل سے

اِجازت دو کہ عشقِ رُوحِ میّت کو دفنا سکیں ہم

تُم کہو تو آشیانِ چلمن میں شمعٰ اپناوجود مِٹا دے

اِجازت دوکہ تُمہارےنام کو موم پہ تراش سکیں ہم

…اِسی اِنتظار میں

image

دیکھ رہے ہو تُم ہر لمحہ مُجھے محفل ہو یا تنہائی

جُدا ہوُۓ ہم ٹھہری رہی نظر آنکھوں میں جذب ہو کر

عالمِ وصل پہ نہ کوئی اِختیار نہ جور و جفاکی بندش

بدن جُدا ہُوۓ رُوح گُھل گئی سانسوں میں جذب ہو کر

نگاہِ شوق کی عِنایت سے ہُوۓ میرےجان و تن فروزاں

اندھیراسوۓ چاندنی اُترنےلگی دھڑکنوں میں جذب ہوکر

خائِف ہوتا ہے دل ہِجر کی آزمائش سے جب بھی گُزرے

لمحہ غرُوب ہُوا جاگ اُٹھی قُربت کرنوں میں جذب ہو کر

احساسِ دُوری کی کسک نے دلاۓ ہیں یاد نشِیلے پَل

لَب خُشک ہُوۓ اور بھیگتے گۓ آہوں میں جذب ہو کر

دل اَفروز

image

ہاۓ وہ خوُشبو میں لِپٹے ہاتھ

میری ہستی کو فنا کر چلے

وہ پناہوں کے مظبُوط جھرونکے

پِھر سے ارماں جگا کر چلے

چمکتی زنجیروں کے قید خانے

دل کے پنجرے کو اُڑا کر چلے

اُف وہ آئینے سےشفاف ساۓ

پِھر سے میری رُوح چُرا کرچلے

اَن کہےالفاظ کہہ گۓ اِشاروں میں

وہ اِک نئی پیاس کو بڑھاکرچلے

رُوٹھےجذبات کی راکھ اُڑتی گئی

شمعٰ کی موم کو پِگھلا کر چلے