بے خُودی

image

تیری ایک صدا پہ جو دوڑی چلی آتی ہُوں

لگن شاید اِسی کو کہتے ہیں

بِچھاۓ ہیں پھُول تیری راہ گزر میں ایسے

چاہت شاید اِسی کو کہتے ہیں

جِس سرُور میں ہم مِل رہے ہیں صنم

خُماری شاید اِسی کو کہتے ہیں

مہک رہا ہےمیرا پیراہن تیری خوشبو سے

محبّت شاید اِسی کو کہتے ہیں

دل ہی دل میں مُسکرانے لگی ہُوں اب تو

نزاکت شاید اِسی کو کہتے ہیں

پرستار ہوُں میں اُس سراپإِ نُور کی

بندگی شاید اِسی کو کہتے ہیں

خُود سے ڈر لگتا ہے

image

خود سے ڈر لگتا ہے کہ

سمندر کی آغوش

میں چُھپ کے

اُس کی دھڑکنوں کے

شور کو سُن کے

جو پُکارتا ہے مُجھے

خود میں سما جانے کو

اور گہرے پُر کشش

نیلے رنگوں میں

گَر کھو جاؤں

تو کیا ڈُوب جانے کا ڈر ہے؟

خُود سے ڈر لگتا ہے جب

خوشبو جو جھانکتی ہے

دریچوں سے تب

میرے جانم کی

کشش سے تڑپتا ہے

وجود کُچھ اِس طرح

کہ شمعٰ کِھنچی جانا

چاہتی ہے باہوں

میں مر جانے کو

تو کیا مُکمّل ہو جانے کا ڈر ہے؟

ہاں خُود سے ڈر لگتا ہے

کہ کہیں موم بن کر

اُس کی ہتھیلی پہ

پِگھل نہ جاؤں اور

قطرہ قطرہ جلوُں تو

یہ کسک بڑھتی ہی جاۓ

تب خود کو سونپُوں

اُس کے شعلوں میں

تو کیا فنا ہو جانے کا ڈر ہے؟

اور خود سے ڈر لگتا ہے

جب چمکتے چاند کے

نُور میں نہا کے

نِکلوں اور ریزہ ریزہ

ہو جاؤں اُس شبنمی

لمس میں نِکھر جاؤں

تو کیا سنور جانے کا ڈر ہے؟

اب خود سے ڈر لگتا ہے

ٹُوٹیں جسم تو

سمبھلیں گے کیسے

پھر اِن زنجیروں

میں جکڑے واپس

لَوٹیں بھی

تو کیا آزاد ہو جانے کا ڈر ہے؟

بے دل خُوشی

image

کوئی مِحفل تیری یاد سے خالی نہیں جاتی اب تو

ختم کر رہی ہے عالمِ بے بسی دل کو دھیرے دھیرے

تماشائی نظر آتے ہیں گِرد و نواہ جال پھیلاتے ہوُۓ

فنا کر رہا ہے حُسنِ بناوٹ احساس کو دھیرے دھیرے

ماندھ پڑ گۓ ہیں آنکھوں کےاُجالے تجھے ڈُھو نڈتے

کاٹ رہی ہے سیاہِ فُرقت  رُوح  کو دھیرے دھیرے

نا پسند خُود نظر آنے لگتی ہوں جب تُو نہ ہو سامنے

چِیر رہا ہے گھونٹِ زہر جگر کو دھیرے دھیرے

آبِ نِیساں

image

نۓ رنگوں میں پَل رہی ہوُں دیکھو

آبِ نوَ میں دُھل رہی ہوُں دیکھو

کچّے تھے جو ذرۂِ مِٹّی کے نِشاں

خاکِ نوَ میں گُھل رہی ہوُں دیکھو

جاگ اُٹھی ہیں بےلگام خواہشیں

حسرتِ نوَ میں ڈَھل رہی ہوُں دیکھو

شب جوان دن بے کل ہُوۓ جاتے ہیں

اُمنگِ نوَ میں جل رہی ہوُں دیکھو

نِکھر رہے ہیں موتئِ سِیپ اور بھی

بارشِ نوَ میں چل رہی ہوُں دیکھو

ساحِر آنکھوں کے ٹکراتے ہی

image

ساحِرآنکھوں کے ٹکراتے ہی
صُبحیں آزاد راتیں قیدی
مُحبّت بے خود، مراسم قرِین ہیں
آدھی سوئ آدھی جاگی حسرتوں میں
پِنہاں بے اِختیار انگڑائیاں اور
اِن میں بَستی جوان ترستی
شبنم کی ذندگی جِن سے
سیراب ہوتی ایک ایک بُوند
جو فریادکرتی ہے ایک گُھونٹ کی

ساحِرآنکھوں کے ٹکراتے ہی
جب بِجلیاں گردِش کرتی ہیں
جُستجو دائروں میں مِل جاتی ہیں
اور کَسمساتی آگ کے ارمانوں تلے
جب ہوتے ہیں اندھیرے اجنبی
تب ایک رُت کی بدلی سے
چھاؤں جھانکنے لگتی ہے اور
سُرخ شرم کے جوبن پر یہ
پھُول مَسلتے رہتے ہیں

ساحِرآنکھوں کےٹکراتے ہی
اَنچھُوئ مست تمنّائیں جَگتی ہیں اور
گرم جذبوں کی حرارت سے
فِشاں ہوتے ہیں راز تب اور
شوخ نظروں سے جام پِیتے ہوُۓ
لَڑکھڑاتے بھی ہیں اور پِلاتے بھی ہیں

نَذرانہ

image

جاتے جاتے وہ مُجھے نذرانہ دے گیا

ہونٹوں کو پیاس آنکھوں کو شرمانہ دے گیا

برق سی لِہر خُونِ جگر چِیرتی رہی

نۓ سِلسلوں کو انداذ قاتِلانہ دے گیا

نظریں ٹِھہری رہیں وقت چلتا رہا

چند بِسروں میں ایک زمانہ دے گیا

چُھپتی رہی شمعٰ جلالِ یار میں

قندِیل کی سوغات میں آشیانہ دے گیا

حِصار

image

نظریں مِلاؤں بھی تو کیسے

ایسے حِصار سے ڈر لگتا ہے

جو تھم چُکا ہے مُدتّوں بعد

ایسے برسنے سے ڈر لگتا ہے

مخملی جال میں بندھی ہو جیسے

ایسی زنجیِر سے ڈر لگتا ہے

گرم بندِشوں کے گھیرے ہوں جیسے

ایسے کھو جانے سے ڈر لگتا ہے

تَپتی دھُوپ کا اُجالا ہو جیسے

ایسے جل جانے سے ڈر لگتا ہے

شمٰع فنا ہُوئ ہے جِس کے لِیۓ

ایسے لُٹ جانے سے ڈر لگتا ہے

پیارا چاند

image

آج دِل پھر غمگین سا ہے

اُس کا وجُود ہم نشیِن سا ہے

سایہ جو ہر سُو پیچھے پڑا ہے

اُس کا سراب دِل نشِین سا ہے

نیند سے بیدار ہوُئ جو کروٹ

خواب کُچھ اُس کا رنگین سا ہے

رُوح میں اُتر گیا جو سانس بن کر

قطرۂِ خُون وہ نمکِین سا ہے

چُرا لِیا جس نے میرا سب کُچھ

چاند وہ تھوڑا ذمِین سا ہے

ا دھُور ے مراسِم

image

دردِ دل نا مُکمّل

چین و حسرت نا مُکمّل

دھڑکنِ دِل بے زار

رَگ و جاں نا مُکمّل

بے دِل رونقِ ہنسی

شوخئِ زنجیِر نا مُکمّل

لکیِرِ نصیب ِ یار

حیاتِ بندَگی نا مُکمّل

سِلوٹِ ریشمِ دہلیِز

عادتِ خُمار نا مُکمّل

بے خود خواہشِ وصل

جلوۂِ نظر نا مُکمّل

کب تَک؟

image

آنسوُ چُھپائیں کب تک نِیندیں گنوائیں کب تک

کِرن تو دستک دے چُکی سوگ منائیں کب تک

قِسمت کی آڑ میں چُھپی بربادی نظر آئ تو

دامن میں آگ بُجھانے کے ڈر کو چُھپائیں کب تک

تیرے ساۓ نے در کھولے ہیں موت کے چاروں اَور

ذِندگی کے پیچھے بھاگتےخود کو رُلائیں کب تک

میری بے بسی نے ہاتھ پَکڑا ہے میرا کُچھ اِس طرح

تیری کسک کی خوشبُو سے پِیچھا چھُڑائیں کب تک

رات کی سیاہی پہ کہکشاں کا رقص دیکھا تو ہے

ادھُورے چاند کی تنہائ کے داغ کو ٹُھکرائیں کب تک